اتوار، 30 نومبر، 2025ء
جامعہ فاروقیہ کا سنگ بنیاد 17 صفرالمظفر 1394ہجری بمطابق12مارچ1974 کو توکل علی اللہ واخلاص کے سرمایہ سے سرشاراستاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدعالم صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا ادریس کاندھلوی کے مشورہ سے شہر کے چند مخلص احباب کے تعاون سے حافظ الحدیث والقرآن مولانا عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ کے بابرکت ہاتھوں سے رکھوایا۔
جامعہ کو ہمیشہ اکابر علماء دیوبند کی سرپرستی کی سعادت نصیب رہی ۔خصوصا حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی ؒ حضرت مولانا ادریس کاندھلوی ؒ حضرت مولانا سرفراز خاں صفدرؒ جانشین شیخ التفسیر مولانا عبیداللہ انورؒ خطیب اسلام حضرت مولانا سالم قاسمی ؒ(مہتمم دارالعلوم دیوبند)فقہیہ امت حضرت مولانا محمدانظرشاہ کاشمیری حضرت مولانا مالک کاندھلوی ؒ امام السالکین حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کندیاں شریف اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمدتقی عثمانی مدظلہم صدر دارالعلوم کراچی قابل ذکر ہیں شوال 1394ہجری میں سرمایہ اہلسنت مولانا سرفرازخاں صفدر نے پہلا سبق پڑھایا اور شعبہ حفظ وناظرہ درجہ کتب کا باقاعدہ آغاز ہوا
جامعہ ہذا کے شعبہ حفظ میں ملک بھر کے طلباء کرام مستفید ہورہے ہیں محنتی اور تجربہ کار اساتذہ کرام شب و روز کلام اللہ کی خدمت میں مصروف ہیں
جامعہ سے متصل آبادی کے بچوں کی سہولت کے پیش نظر ماہر اساتذہ کی خدمات قرآن کریم کی تعلیم کےلیے حاصل کی گئی ہیں
یہ شعبہ مکمل طور پر مدارس عربیہ کامرکزی بورڈ وفاق المدارس العربیہ کے مقرر کردہ نصاب تعلیم کے مطابق کام کررہاہے ۔ اس شعبہ میں علم تفسیر۔اصول تفسیر۔حدیث ۔اصول حدیث فقہ ۔اصول فقہ ۔صرف ۔نحو ۔علم معانی ۔ بدیع۔بیان۔کلام ۔عقائد۔فلسفہ۔ منطق۔ریاضی۔تاریخ اور جغرافیہ پڑھائے جاتے ہیں۔
اس شعبہ کے قیام کا مقصد عامہ الناس کو پیش آنے والے دینی مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کرناہے۔اس شعبہ کے روح رواں حضرت مولانا مفتی قاری محمدیوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ(جانشین حضرت مولانا محمدشعیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ خلفیہ مجاز حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ) تھے جوکہ جامعہ کے صدر مدرس بھی تھے ان کے انتقال کے بعد اب باقاعدہ دو مفتیان کرام اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
تجوید وقرآت کے اعتبار سے جامعہ ضلع بھر میں خاص شہرت رکھتا ہے روایت حفص کے علاوہ قرآت سبعہ وعشرہ پڑھانے کا بھی انتظام موجود ہے
پانچ سالہ اس کورس میں پندرہ سال حافظ کو ٹیسٹ کے بعد لیاجاتا ہے ۔سال اول میں عربی اور دوسرے سال میں انگریزی پڑھائی جاتی ہے تیسرے سال میں نویں سائنس کے ساتھ اور عربی گرائمر ۔چوتھے سال میں دسویں سائنس کے ساتھ اور اولی کی کتب ۔پانچویں سال میں فرسٹ ائیر ساتھ ثانیہ عربی میڈیم میں پڑھائی جاتی ہے
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدرفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی تجویز کے مطابق سکول وکالج کے طلباء کے لیے قرآن حکیم ناظرہ اور عقائد درست کروانے کا کورس اپنی تما م تر رعنائیوں کے ساتھ جاری وساری ہے
کاروباری اورجدید تعلیم یافتہ طبقہ کودینی شعور دینے کے لیے دوسالہ کورس وفاق المدارس کے تحت کام کررہا ہے۔
بیسک۔ ویب ڈیزائینگ ۔وڈیو آڈیٹنگ اور دیگر مفید کورسزکروائے جاتے ہیں۔
طلبہ کو علوم اسلامیہ کے ساتھ ساتھ علوم عصریہ کی تعلیمی سہولت (پرائمری تا بی اے) بھی مہیا کی گئی ہے ۔
5محرم الحرام 1352 ہجری بمطابق یکم مئی 1933 عسیوی کو مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ کے ایک گاؤں بھنگیاں(کلسی) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی پھر مزید تعلیم کے لیے سفر شروع کیاقدوری مولانا ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ (حسہ بالاکوٹ والے)سے پڑھی
مزید کچھ کتب ایبٹ آباد کے قریب سلہڈ کے مقام پر پڑھیں اس کے بعد 1951تا1954 تک راولپنڈی رتہ کے مقام پر مولانا عبدالطیف ؒ بالاکوٹی(فاضل دارالعلوم دیوبند) سے علم حاصل کیا۔
1954تا1957 جامعہ اشرفیہ لاہور (نیلاگنبد)دورہ حدیث تک کی تعلیم حاصل کی ۔تجوید اور مشق کی تعلیم امام القراء قاری عبدالمالک صاحب ؒسے حاصل کی۔آپ مولانا ادریس کاندھلویؒ کے اخص تلامذہ میں سے تھے
استاذ الکل مولانا رسو ل خان صاحبؒ۔مولانا مفتی حسن صاحبؒ (بانی جامعہ اشرفیہ لاہور)مولانا ادیس کاندھلوی صاحبؒ۔مولانا یعقوب صاحبؒ۔مولانا عبدالطیف صاحب ؒبالاکوٹی ۔مولانا ولی اللہ صاحبؒ
مولانا ضیا الحق صاحبؒ۔مولانا عبیداللہ اشرفی صاحبؒ۔مفتی جمیل احمدتھانوی صاحبؒ۔امام القراء قاری عبدالمالک صاحبؒ مولانا سید غازی شاہ صاحبؒ ہزاوری (فاضل دارالعلوم دیوبند)
لاہور(بانساں والابازار) مسجد میں امامت شروع کی پھر اکتوبر1958 میں امام اولیاء حضرت مولانا احمدعلی ؒ لاہوری نے شیخوپورہ کے ایک گاؤں ملیاں کلاں میں تشکیل کی وہاں مسجد میں امامت وخطابت کی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔1962 میں ملیاں کلاں میں مدرسہ حنفیہ ضیاء الاسلام قائم کیا اور طلباء کو حفظ وناظرہ درس نظامی کی ابتدائی کتب کی تعلیم دیتے رہے۔1974 میں شیخوپورہ شہر میں جامعہ فاروقیہ کی ابتداء کی جس کا سنگ بنیادحافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی ؒ نے اپنے دست مبارک سے رکھا۔آخری دم تک درس وتدریس کے ساتھ منسلک رہے تقریباً دو دہائیوں تک بخاری شریف اور دیگر کتب احادیث کا درس دیتے رہے۔
روحانی تربیت کے لیے مولانا ادریس کاندھلویؒ سے بیت ہونا چاہاتو حضرت نے فرمایا میرا ایک اصول ہے کہ میں کسی کو بیت نہیں کرتااگر میں یہ اصول توڑتا تو مولوی محمدعالم کے لیے توڑتاپھر آپ نے اصلاحی تعلق کے لیے مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کو خط لکھا حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے جواب میں حضرت لاہوری ؒ کے ساتھ اصلاحی تعلق کا فرمایاپھر حضرت لاہوری سے تعلق قائم کیا جو تقریبا ًسات سال رہا 1962 میں حضرت لاہوری کی وفات کے بعد حضرت لاہوری کےاجل خلفاء میں سے مولانا شعیب صاحبؒ(خانقاہ ڈوگراں) سے تعلق قائم کیا اور انہی سے اجازت وخلافت حاصل ہوئی۔
24 رمضان المبارک1435 ہجری بمطابق14جولائی2014 عیسوی 81 سال دوماہ کی عمر میں دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔
تین بیٹے مولانا محمدطاہر عالم ۔قاری محمدزاہد عالم۔ مولانا محمدطیب عالم۔اور ایک بیٹی سوگواروں چھوڑی